علمبردار اسلام اور علمائے زمانہ

مولانا عبدالحق صاحب فاضل سنسکرت کے قلم سے، پیغام صلح، 11؍ اگست 1926

مرتبہ ڈاکٹر زاہد  عزیز، UK

(نوٹ از مرتب:  اس نہایت قیمتی مضمون کو دوبارہ پیش کرنے میں ایک بڑی دقت تھی کہ  اسکے پرنٹ میں بعض الفاظ اور عبارات   اتنے خراب طرح چھَپے ہوئےہیں  کہ  انکا پڑھنا بہت مشکل  ہے، نیز  بعض جگہ  صاف الفاظات   میں  بھی کتابت کی غلطیاں  ہیں۔  بہت کوشش سے  انکو درست کیا گیا ہے۔ فارسی کی عبارات جو بلا ترجمہ تھیں،   انکا  اردو ترجمہ ڈال دیا گیا ہے۔ حوالوں کی حتی الوسعی تصدیق کی گئی ہے، اور جہاں  کوئی خامی موجود تھی اسکو درست کیا ہے۔)

 قران کریم ، دیگر کتب مقدسہ اور تاریخ عالم کے اوراق اس امر پر گواہ ہیں کہ جس طرح بعض امراض کی حالت میں افراد تقویت بخش اور جزوبدن ہونے والی غذاؤں سے متنفر  ہو کر محض چاشنی دار غذاؤں پر جھک پڑتے ہیں جو ان کے لیے ممد حیات ہونے کے بجائے مضر صحت ہوتی ہیں۔ اسی طرح ذوق سلیمہ کا فقدان اللہ تعالی کے مرسلین اور ماموروں کے متعلق انسان کےلئے خوفناک ٹھوکر کا موجب ہو جاتا ہے۔ وہ ان مقدس ہستیوں کی جنبش لب اور اشارہ ابروسے پیدا ہو جانے والے خرق عادت بڑے  بڑےحادثات اور وسیع الاثر  مظاہروں کا منظر رہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ رسول کے پاس سونے اور چاندی کے پہاڑ ہوں۔ خشک اور چٹیل میدانوں میں اس کے حکم سے ٹھنڈے اورشیریں چشمے پیدا ہوں۔ زمین اس کی خاطر لپیٹ دی جائے اورآسمان اس کے لیے کھول دیا جائے۔اس کے سر پر فرشتوں کے جھنڈ ےپر پھلائے ہوئے ہوں۔ اس کے دم سے قبر کی ہڈیوں میں حرکت پیدا ہو اور سینکڑوں برس کے مردے زندہ ہو جائیں۔ اندھے بینا، بہرے شنوا اور گونگے تکلم آشنا ہوں۔ اس کے سامنے ہوا میں ایک جنت ہو ۔پہاڑ اس کے اشارہ انگشت سے اپنے جمود کو چھوڑ کر پرواز کریں۔ وہ تمام دنیا جہان کی آنکھوں کے سامنے آسمان پر چڑھ جائے اور فرشتوں کے پروں پر ہاتھ پھیلائے ہوئے نیچے اتر آئے۔ غرض اس  کی زندگی کا ہر ایک فعل اس عالم انسانی کے عادات اُطوار سے مغائرت کلی رکھتا ہو۔ یہ وہ     محیر العقول مطالبات اور شناخت مامورین کے اعلی معیار تھے کہ جو انسانی ذہنیت کے ابتدائی نشونما کے دنوں میں عقل انسانی نے تجویز کئے۔

بعثت مامورین کی غرض

 اس وقت زمانے نے ترقی کی منزلیں طے کر لی ہیں۔ تاہم فرزندان آدم کی دلوں کی بستی حقیقی روشنی سے اب تک محروم ہے۔سورج تو بلند ہو چکا ہے۔ تا ہم خفگان غفلت کی آنکھوں میں خمار اب تک باقی ہے۔ نور و ظلمت اور حق و باطل میں امتیاز کی بصیرت ابھی تک مندی ہوتی ہے۔ ایک مامور من اللہ سے اس کے صدق دعویٰ کی دلیل میں اب بھی وہی کچھ طلب کیا جاتا ہے جوتاریکی  کے فرزند گزشتہ انبیاء سے چاہتے تھے۔تاوہ عجیب در عجیب اور خرق عادت نظارے اپنی آنکھوں سے دیکھیں تو سمجھیں کہ فی الحقیقت یہ شخص خدا کا مرسل اور مامور ہے حالانکہ ان کی دیدہ بصیرت پر پردے نہ ہوتے اور ان کے دل محجوب نہ ہوتے تو وہ دیکھتے کہ اللہ تعالی کے لئے اپنے رسول کی خاطر بڑے بڑے خوفناک اور قہری نشان دکھلانا کچھ ضروری امر نہیں۔ اگر وہ سمجھنا چاہیں تو جو کچھ ایک رسول کے واقعات حیات میں معمولاً ہو رہا ہے اس کے اندر بہتر سے بہتر نشان اور اعلی ٰسے اعلیٰ صداقت کی پکار رکھ دی گئی تھی۔ پس اس لیے خدا کی اکثرآیات اور دانائیاں ہمیشہ عام اور دنیوی مظاہر سے تعلق رکھتی ہیں۔ تاکہ ان کی ہر یک مخلوق ہر زمانے میں ان کو دیکھے اور ان کی تصدیق کر سکے۔ ایک  مامور اور مرسل من اللہ کی غایت بعثت دنیا کے اندار دلفریب ستائش حیرت زدہ حادثات کا اظہار نہیں۔ بلکہ ان کی آمد کا مقصد وحید،  لوگوں کو رشدو ہدایت کی طرف بلاناہے۔ اس لئے ان کی صداقت اور معرفت کا معیار ایک ہی ہو سکتا ہے۔ وہ یہ کہ وہ اس وقت افق عالم پر نمودار ہوں۔کہ جب دلوں کی بستی سچی خدا پرستی کی روشنی سے محروم ہو چکی ہو۔ روحانیات اور اخلاقیات کی سر زمین بے آب و گیاہ ویران پڑی ہو۔ اور عالم انسانیت سعادت بشری کی تمام تر راہوں کو فراموش کر چکا ہو۔ ایسے تاریک اور طغیان ضلالت  و گمراہی کے دنوں میں مامور من اللہ آئے۔ اور اپنی آمد کی غرض کو پور ا کر دکھائے۔ خدا سے بھاگے ہوئے بندوں کا راستہ ان کے مالک سے جوڑ دے ۔ اقیم روح و قلب کو روحانیات اور اخلاق حسنہ سے سر سبز و شاداب کردے۔ ظلمت کفر کےلئے اس کا ہاتھ ید بیضا کا کام دے۔

ظہور مامور کے نشانات

جناب مسیح ؑ کے حضور یہودی علماء آئے اور کہا کہ ہمیں کوئی آسمانی نشان دکھا۔ انہوں نے جواب میں ان سے کیا اچھا کہا کہ ’’شام کو تم کہتے ہو کہ موسم خوشگوار رہے گا،کیونکہ آسمان لال ہے اور صبح کو یہ کہ آج آندھی چلے گی۔ کیونکہ آسمان لال  اور دھندلا ہے ۔ تم آسمان کی صور ت میں تو تمیز کرنی جانتے ہو۔ مگر زمانوں کی علامتوں میں تمیز نہیں کرسکتے‘‘ ( متی باب 16، آیات 41-  ’’ جب  تم مغرب کی طرف بادل اٹھتے دیکھتے ہو توجھٹ کہتے ہو کہ مینہ آتا ہے۔ اور ایسا ہی ہوتا ہے۔ اور جب   جنوب کی ہوا چلتی ہے  تو کہتے ہوکہ گرمی ہو گی۔ تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ اے ریاکارو! تم زمین اور آسمان کو ریا کرناجانتے ہوتو اس زمانہ کو کیوں نہیں امتیاز کرتے۔تم خود کیوں فیصلہ نہیں کرتے کہ کیا درست ہے؟‘‘  ( لوقا  باب 12، آیات 54-57)

دوسری انجیل کے واقعہ نگار نے اس کو یوں درج کیاہے۔’’اس نے روح میں آہ کھینچ کر کہا۔ اس زمانے کے لوگ کیوں نشان طلب کرتے ہیں۔میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اس زمانے کے لوگوں کو کوئی نشان دیا نہ جائے گا۔‘‘ ( مرقس باب 8، آیات 13-11)

یہ اس مقدس ہستی کا نشان طلب کرنے والوں کو جواب تھا ۔ جس کی زندگی کو واقعہ نگاروں نے سر تا پر محیر العقول معجزات کی زندگی بنانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن حقیقت ان الفاظ کے اندر ہے۔ کہ زمانہ کی شہادت سے بڑھ کر کسی مامور کی صداقت کا اور کوئی معیار نہیں ہو سکتا ۔ زمانہ کو دیکھو اور لوگوں کی حالت کا اندازہ کر کے بتلاؤ کہ کسی مصلح کی ضرورت ہےیا نہیں۔اگر نیکی کی کھیتیاں واقعی سوکھ گئی ہیں تو آسمان سے بارش کا آنا بھی ضروری ٹھہرا۔ پس اس بناء پر مامورین الہیٰ اور اولیا ء اللہ کی صداقت پر نہ صرف ان کے اپنے اعمال کبریٰ ہی شاہد  عادل ہوتے ہیں۔ بلکہ ان کے مخالف اور معاند زبان حال سےصدق دعا پر گواہی دیا کرتے ہیں۔

گر نہ بودے در مقابل روئے مکروہ وسیہ، کس چہ دانستے جمال شاہد گلفام را

روشنی را قدر از تاریکی است و تیرگی، واز جہالت ہاست عزو وقر عقل تام را[1]

اسی لئے مقدس نوشتوں میں جہاں کسی مرسل من اللہ کی آمد کی پیشینگوئیاں درج ہوتی ہیں تو اس کے ساتھ ہی اس کے زمانہ کے مخالف اور معاند لوگوں کی اخلاقی پستی اور روحانی موت کا تذکرہ بھی یقینا ًہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مامورین الہیٰ کی یہ عادت رہی ہے کہ وہ اپنے متعلق تحقیقات کرنے والوں کو ہمیشہ اپنی پاکیزہ زندگی کی طرف توجہ دلایا کرتے ہیں۔ فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِیۡکُمۡ عُمُرًا مِّنۡ قَبۡلِہٖ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ (سورۃ یونس، آیت 16)  ’’میں نے اپنی عمر کا ایک حصہ تمہارے اندر بسر کیا ہے پھر کیا تم اس سے سمجھ نہیں سکتے‘‘۔ کہ میں کس کا قماش کا آدمی ہوں۔ اسی بنا پر وہ ایک جو یائے حق و حقیقت کو اپنی معیت اورمصاحبت میں رہنے کی تاکید اکید  فرمایا کرتے ہیں۔

الغرض خدا کے ماموروں کی شناخت کے یہ دو زبردست ثبوت ہیں کہ ان کی اپنی زندگی احکام الہیٰ کی جیتی جاگتی تصویر ہوتی ہے جو ایک طالب حقیقت کے لیے اطمینان کا موجب ہوتی ہے اور دوسرا یہ کہ ان کے مخالف اورمعاندصفحہ ہستی پر بدترین خلائق ہوتے ہیں ۔نہ صرف ان کی مذہبی حالت ہی فاسقانہ اور فاجرانہ  ہوتی ہے بلکہ ان کی اخلاقی حالت بھی اسفل السافلین تک گری ہوئی ہوتی ہے ۔گویا ان کی عملی زندگی انبیاء اور اولیاء کی حیات طیبہ کی ہر حالت میں متضاد واقع ہوتی ہے۔ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی دنیا کے ان بے نظیر باکمال انسانوں میں سے تھے جن کے دعووی  کی صداقت اسی محک پر پرکھی جا سکتی ہے۔

 گوآج ہم میں وہ مقدس وجود جو دنیا کو اپنے دعویٰ کی صداقت کے آزمانے کے لیے اپنی مصاحبت کی دعوت دیا کرتا تھا ۔موجود نہیں تاہم اس کا دعویٰ اآج بھی ایک بین اور زندہ ثبوت رکھتا ہے۔ جاؤ اس برگزیدہ خدا کے اشد ترین دشمنوں کی شہادت    فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِیۡکُمۡ عُمُرًا مِّنۡ قَبۡلِہٖ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ   کی مشعل ہدایت کی روشنی میں دیکھ لو اور دوسری طرف اس کے مخالف و معاند لوگوں کے شبانہ روز اعمال کا مطالعہ کرو تو تمہارے لیے حق و باطل کا فیصلہ کوئی مشکل نہ رہے گا ۔ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَذِکۡرٰی لِمَنۡ کَانَ لَہٗ قَلۡبٌ اَوۡ اَلۡقَی السَّمۡعَ وَ ہُوَ شَہِیۡدٌ۔(سورۃ: قؔ  ، آیت 37)

ایک مخالف کی شہادت

شمس العلماء مولوی محمد حسین بٹالوی جو حضرت مرزا صاحب کے سب سے اشد مخالف تھے اپنے رسالہ اشاعت السنہ، جلد 7، نمبر6 ، بابت ماہ جون جولائی و اگست  1884 میں حضرت مرزا صاحب اور ان کی کتاب براہین احمدیہ پر ریویو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:-

اب ہم اس پر اپنی رائے  نہایت  مختصر اور بے مبالغہ الفاظ میں ظاہر کرتے ہیں۔ ہماری  رائے  میں یہ کتاب اس زمانہ میں اور موجودہ حالات کی نظرسے ایسی کتاب ہے کہ  جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی۔  اور آئندہ کی خبر نہیں۔ لعل اللّٰہ یحدث بعد ذالک امریٰ  اور اس کا مئولف بھی اسلام کی مالی و جانی و قلمی ولسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے۔  ہمارے ان الفاظ کو کوئی ایشیائی مبالغہ سمجھے تو ہم کو کم سے کم ایک ایسی  کتاب بتادے جس میں جملہ فرقہ ہائے مخالفین اسلام خصوصاً  فرقہ آریہ و برہمو سماج سے اس زور شورسے مقابلہ پایا جاتا ہو اور دو چار ایسے اشخاص انصار اسلام کے نشاندہی کرے جنہوں نے اسلام کی نصرت مالی وجانی و قلمی و لسانی کے علاوہ حالی نصرت کا بھی بیڑہ اٹھالیا ہو۔‘‘ (رسالہ اشاعۃ السنہ جلد 7نمبر6صفحہ169)

’’مؤلف  براہین احمدیہ کے حالات و خیالات سے جس قدر ہم واقف ہیں ۔ہمارے معاصرین سے ایسے واقف کم نکلیں گے۔ مؤلف صاحب ہمارے ہم وطن ہیں بلکہ اوایل عمر کے (جب ہم قطبی اور شرح ملا پڑھتے تھے) ہمارے ہم مکتب اس زمانہ سے آج تک ہم میں ان میں خط و کتابت و ملاقات و مراسلت برابر جاری ہے۔اس لئے ہمارا  یہ کہنا کہ ہم ان کے حالات  و خیالات سے بہت واقف ہیں۔ مبالغہ قرار دنہ دئیے جانے کے لائق ہے۔‘‘  (صفحہ 176)

ایک اور جگہ مولوی صاحب موصوف مخالفین حضرت مرزا  صاحب کے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہ ان کو شیطانی الہام ہوتے ہیں لکھتے ہیں:ـ

’’مؤلف  براہین احمدیہ مخالف  و موافق کے تجربے اور مشاہدے کی رو سے (وَاللّٰہُ حَسِیۡبُہ)شریعت محمدیہ پر قائم و پرہیز گار اور صداقت شعار ہیں۔اور نیز شیطانی القاء اکثر جھوٹے نکلتے ہیں۔ اور الہامات مؤلف براہین سے (انگریزی میں ہوں خواہ ہندی و  عربی وغیرہ) آج تک ایک بھی جھوٹ نہیں نکلا۔ (چنانچہ ان کے مشاہدہ کرنے والوں کا بیان ہے۔گو ہم کو ذاتی تجربہ نہیں ہوا)پھر وہ القاء شیطانی کیوں کر ہو سکتا ہے۔ کیا کسی مسلمان متبع قرآن کے نزدیک شیطان کو بھی قوت قدسی ہے کہ وہ انبیاء ملائکہ خدا کی طرف سے مغیبات پر اطلاع پائے۔ اور اس کی کوئی بات غیب و صدق سے خالی نہ ہو جائے۔‘‘  (صفحہ 284)

مولوی محمد حسین صاحب کے مندرجہ بالا بیان  میں ایک جو یاء حق کےلئےحضرت مرزا صاحب کی صداقت پرایک بین بصیرت موجود ہے۔ میں اس جگہ حضرت مسیح موعود کے متعلق کوئی لمبے چوڑے تحسین و تعریف کے کلمات ان کے مخالفین و معاندین کی زبان سے نقل کرنا نہیں چاہتا۔ کیونکہ یہ ایک بہت ہی طولانی داستان ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ کہ جلسہ اعظم مہوتسو اور دیگر عظیم الشان مذہبی کانفرنسوں کے اندر فتح کا سہرا کس کے سر پر باندھا گیا۔سول ملڑی گزٹ اور دوسرے مقتدر اخبارات کس کے روح افزاءاور جان پرور مضامین کے ثنا خواہاں تھے۔ آریہ سماج کی زہریلی کچلیوں اور عیسائیت کے ہو شربا طلسم کو کس نے پاش پاش کیا اور کس نے سب سے پہلے اس راز کو افشاء کیا کہ اب اسلام کی ترقی تلوار کی نوک کے ساتھ نہیں۔ بلکہ قلم کی جنبش کے ساتھ مقدر ہے۔ اس وقت لوگوں میں سے اکثروں نے اعتراض کیا ۔ بہتوں نے استہزاء کیا۔  کتنوں ہی نے کہہ دیا کہ یہ ایک دجل ہے۔ کہ جو انگریزوں کو خوش کرنےکےلیے اختیار کیا گیاہے۔ بالاخر رفتہ رفتہ سب نے اس صداقت کو قبول کیا اورکیونکر قبول نہ کرتے۔ وہ کسی انسانی قیاس کا نتیجہ نہ تھی۔ اس کا سر چسمہ فرزندانِ دنیا کا علم نیرہ نہ تھا۔بلکہ وہ وحی تنزیل الہیٰ کی مشعل ہدایت سے ماخوذ تھی۔

میں نہیں سمجھتا کہ مجدد وقت کی معرفت اور شناخت کےلئے ان حقائق اور بینات سے بڑھ کر تم اور کون سے دلائل کی تلاش میں ہو۔ اگر حدیث مجدد درست ہے اور اسلامی تاریخ نے ہر صدی کے سر پر اس کی تصدیق کی ہے۔  تو خدا را اس صدی کے مجدد کو تلاش کرو۔

علمائے ہند کی مجددیت

اس جگہ مجھے اس  مغالطہ کا بھی ازالہ کر دینا چاہیے جو بعض کوتہ نظر علماء ظواہر کی طرف سے پیش کیا گیا ہے کہ علمائے زمانہ ہی اس صدی کے مجدد ہیں ۔مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملک کے طول و عرض میں سفر کرنے کا اکثر موقعہ ملا ہے اس لئے میں ان علماء کی اسلامی خدمات سے بھی کسی قدر زیادہ واقف ہوں۔ ان کے کارہائے نمایاں کی چند ایک مثالیں ناظرین کےتفنن طبع کے لیے حوالہ قلم کرتا ہوں۔ شمس العلماء مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو لاہور کے اہل حدیث حضرات نے ایک مرتبہ بہت سا چندہ فراہم کر کے تبلیغ حق کے لیے باہر بھیجا۔ آپ جب بیاس کے اسٹیشن پر اتفاقیہ کوئی چیز خریدنے کے لئے اترے تو آپ کی نظر ایک خوبصورت عورت سے لڑ گئی۔ آپ نے فورا گاڑی پر سے اپنا سامان اتروا لیا اور واپسی ٹکٹ خرید کر گھر پہنچے ۔لوگوں کو آپ کی اس قدر جلد مراجعت پر سخت تعجب ہوا ۔ توآ پنے نہایت سادگی سے فرمایا یہ حدیث صحیح میں وارد ہے کہ جب کسی غیر محرم عورت پر نظر پڑ جائے تو فوراً اپنے اہل کی طرف لوٹ آؤ۔ غریب مسلمانوں کا روپیہ یوں مولوی صاحب کےحد سے بڑھےہوئے جنون زوجیت پر عمل بالحدیث کے مہذبانہ پیرایہ میں برباد ہو گیا۔

 مولوی محمد حسین بٹالوی کے بعد دوسرے درجہ پر ان کے روحانی فرزند مولوی ثنا اللہ امرتسری کا ذکر آنا چاہیے۔ آپ مسلمانوں میں بہت بڑے مناظر بلکہ شیر پنجاب کے خطاب سے مخاطب ہیں ۔آپ انجمن حمایت اسلام کے ایک سالانہ جلسہ کی تقریب پر تقریر فرما رہے تھے ۔اتفاق سے وہاں ارشد گورگائی مشہور شاعر بھی موجود تھے۔ مولانا کی تقریر کی خوبی پر انہوں نے فی البدیہہ یہ شعر پڑھا۔

زبانِ تیز اُن کی استرے سے بھی زیادہ ہے

مجھے ڈر ہے کہیں کاٹیں نہ بنیادِ مسلمانی

 جبل پور میں آپ نے ایک بہت بڑا مناظرہ کیا کہ جس کے کوائف وحالات بڑی شد ومد سے اخبارات میں شائع کئے گئے ۔مگر جبل پور کے ایک ان کے ہم مشرب مولوی نے اس مباحثہ پر ایک نظم پڑھی جس سے ایک شعر میں شیر پنجاب کے لقب کا ذکر کرتے ہوئے یہ مصرعہ  بھی پڑھا گیا تھا۔

آئی حیوانوں کے ہاتھوں میں عنانِ  اسلام

 اسی طرح کا ایک مباحثہ  راولپنڈی میں بھی ہوا ۔وہ دن مناظرہ راقم سطور ہذا کے ساتھ تھا۔ اور ایک دن مولوی صاحب کے ساتھ۔  اس پر ان کے ایک اہلحدیث مولوی عبدالاحد خانپوری نے اہل حدیث کو مخاطب کر کے فرمایا  کہ دیکھ لیا شیرِ پنجاب؟  شیر پنجاب، اس کو تو گیڈر پنجاب کہنا چاہیے۔ اس سے تو مرزائیوں کا لڑکا ہی اچھا نکلا۔

مولوی ثنا اللہ کے بعد سلسلہ عالیہ احمدیہ کے اشد مخالفین میں سے تیسرے نمبر پر غالبا ًمولانا مرتضیٰ احسن دیوبندی کا نام آنا چاہیے۔ آپ دیوبندی یونیورسٹی کے رئیس المناظرین بلکہ امام فن مناظرہ  ہیں۔ ان کی جوگت میری موجودگی میں لاہور کے جلسہ اسلامیہ کے سٹیج پر مسئلہ تقدیر پر بحث کرتے ہوئے بنی تھی۔ اس کی اور مولانا کے اس وقت کے عرقِ انفعال سےٹمٹاتے ہوئے چہرہ کی یاد اب تک میرے دل میں باقی ہے۔ ایک اور موقع پر شاہدرہ (دہلی) میں  ایک  انجمن [2]کے جلسہ میں تقریر کرتے ہوئےآپ نے رسولﷺ کی صداقت پر سب سے بڑی دلیل جو پیش کی وہ یہ تھی کہ حضور ﷺنے ایک شخص کو اپنا پیشاب  پلوا دیا اور نہایت سادہ پن سے مولویانہ انداز میں سوامی شردہانند کو چیلنج بھی دے دیا کہ وہ بھی کسی اپنے متبع چیلے کو اپنا پیشاب پلا کر دکھائے۔  انا للہ وانا الیہ راجعون ۔

جمعیۃ علماء ہند جو ہندوستان کی ایک ہی مقتدر جماعت سمجھی جاتی ہے اس کی علمی بے بضاعتی اوراشاعت اسلام کے ضروری ہتھیاروں سے تھی دستی کا ایک اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ وہ مسیح موعودؑکے ایک ادنیٰ ترین غلام کے سامنے زانؤ شاگردی طے کرنے کے لیے مجبور ہوتی ہے ۔[3]

یہ ہیں اسلامی کشتی کے ناخدا ۔کہ جن کا مقابلہ جماعت احمدیہ کے کارہائے عظمیٰ کے ساتھ کرتے ہوئے شبلی مرحوم نے فرمایا تھا۔  ؎

           اس فرقہ زہاد سے اٹھا نہ کوئی

کچھ ہوئے تو یہی رندانِ قدح خوار ہوئے۔

اب ان علماء کو مسیح موعود ؑکے ساتھ حد سے بڑھی ہوئی مخالفت کی وجہ سے کوئی مجدد تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے تو اس پر سوائے اس کے کیا کہا جا سکتا ہے کہ:

گاو را دارند باور در خدایی عامیان

نوح را باور ندارند از پی پیغمبری[4]

دعوی مسیحیت

دعویٰ مجددیت کے بعد حضرت صاحب کی مسیحیت بھی بزرگانِ سلف کی تشریحات کی روشنی میں کوئی ناقابل قبول امر نہیں ۔

علامہ زمخشری کا شرح مشکوٰۃ  میں یہ قول موجود ہےکہ عیسیٰ اور    ان کی ماں سے مراد ہر ایک متقی مرد ہے کہ جو ان دونوں کی صفات پر ہو۔

 اسی طرح کتاب التیسیر بشرح جامع الصغیر میں لکھا ہےکہ عیسیٰ اور  اس کی ماں سے مراد وہ دونوں اور ویسی ہی  صفات  ہیں۔

اسی بنا پر عرائس البیان میں  لکھا ہے :  وجب نزولہ فی اٰخرالزمان  بتعلقہ بدن  اٰخر، ’’آخری زمانہ میں اس کا نزول دوسرے وجود میں ہوگا‘‘۔ (جلد 1، صفحہ262)[5]

فتویٰ کفر

حضرت مسیح موعودؑ پر علماء زمانہ کے فتاویٰ کفر بھی کسی حقیقت شناس کو دھوکہ میں نہیں ڈال سکتے۔ یہ ایک ایسی وراثت ہے کہ علماء ربانی کو علماء ظواہر کی  طرف سے ہمیشہ ملتی چلی  آئی ہے اور مسیح موعود ؑکے حق میں تو حضرت مجدد الف ثانی نے پیشتر سے لکھ دیا ہے:

’’اور بہت ممکن ہے کہ علماء ظواہر اُن کے مجتہدات سے، ان کے کمال دقیق اور پوشیدہ ماخذ ہونے کے  باعث، انکار کر بیٹھیں اور ان کو کتاب و سنت کا مخالف سمجھیں۔۔۔ ان ناقص لوگوں نے  چند احادیث یاد کر لی ہیں اور احکام شریعت کو ان ہی میں منحصر جانتے ہیں اور اپنے معلومات کے سوا سب کی نفی کرتے ہیں ۔‘‘  (مکتوبات  مجدد الفِ  ثانی ،  جلد دوم، مکتوب نمبر 55)[6]

حجج الکرامہ میں لکھا ہے: ’’چوں مہدی مقابلہ احیا سنت و اماتتِ بدعت فرماید، علماء وقت کہ خو گر ِتقلید فقہا و اقتدا مشائخ و اباء خود با شند گو یند ایں مرد خانہ برانداز دین و ملت ماست و بمخالفت بر خیز ند و بحسب عادت خود حکم ِتکفیر و تضلیل دے کنند۔‘‘ (صفحہ 363)

(نوٹ از مرتب:  اسکا ترجمہ کچھ    یوں ہے۔’’جب مہدی نے سنت کی احیاء اور بدعت کے خاتمہ کی  بات کی، تو اس دور کے علماء نے ، فقہاء اور اپنے مشائخ اور  آبا و اجداد کی تقلید کرتے ہوئے  یہ سوچا کہ یہ ان لوگوں کا گروہ ہے جو ہمارے دین و ملت کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں؛ چنانچہ وہ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنی عادت کے مطابق اس پر کفر کا فتویٰ لگایا اور اسے رسوا کرنے کی کوشش کی۔‘‘)

مسیح موعود پر اگر فتوی کفر علماء ظواہر کی طرف سے پیش نہ کئےجاتے تو ہمیں ان کے تسلیم کرنے میں شاید زیادہ تعجب اور تردد ہوتا ۔خیر یہ بات کتنی ہی عجیب ہوتی۔ لیکن ہم اس پر بھی غور کرنے کو تیار ہو جاتے اگر ان علماء میں سے، یا کوئی اور شخص، مخالفین اسلام کے سامنے سینہ سپر ہو کر حفاظت و اشاعت کا کام کر دکھاتا ۔

 غلام ِاحمد اور عاشق محمد ﷺ

ہندوستان کی سرزمین میں نہیں بلکہ کل دنیا کے مسلمانوں کے اندر بڑے بڑے بادشاہ ہیں۔ فلاسفر وعلماء ہیں۔ بے شمار داعی اور قومی پیشوا ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس زمانہ میں اس قدر اور مسلمانوں کے لئے سب سے بڑا کام کس نے کیا ۔اس میں شبہ نہیں کہ بادشاہوں نے اپنے ممالک کو پنجہ غیار سے بچانے کے لیے سرفرو شانہ جہاد کئے ۔فلاسفرو علماء نے علوم وصحائف کے دریا بہا دیے ۔داعیوں اور قومی پیشواؤں نے جان فشانیاں دکھائیں لیکن اصل اسلام کو دشمنان اسلام کے حملوں سے محفوظ رکھنے اوراعلاءِ  کلمۃ اللہ اور اشاعت اسلام کے لئے کس نے اعلان جہاد کیا ؟   ہر عاشق عاشق ہوتا ہے وہ جان فروشی بھی دکھاتا ہے وہ سرگشتہ  جادہ جاناں بھی ہوتا ہے۔ لیکن تمیز عشق کے لئے عشق کرنے والوں کو دیکھنا بے سود ہوگا۔ چاہیے کہ تمیز عشق کے لئے اس کے معشوق کو دیکھ جائے کہ وہ کون ہے۔ کوئی وطن کا پرستار ہے۔ کوئی زر و مال کے لئے کوہ کن ہے۔ اور کسی کے دل میں عزت وجاہ کےلیے شوریدگی ہے۔ کوئی اپنے گم گشتہ عزیزوں کےلئے روتا ہے۔ اور کوئی  حسین ابن علی کےلیے ماتم کنان ہے۔لیکن ان سب کے علاوہ ایک وہ بھی ہے جس نے اپنے عشق کے لیے عشق الہیٰ کو انتخاب کیا ہے۔ جو محمدﷺ کی مشعل  حسن کا والہ و شیدا ہےاور حفاظت اسلام کا  شیفتہ،  جس کے سر میں صرف اشاعت اسلام کی شوریدگی ہے۔ وہ جو دشمنانِ اسلام کےلیے ہر لحظہ کڑک اور بجلی ہو کرجیا  اور عمربھر اسلام کی گم گشتہ عزت و شوکت کا مرثیہ  خوان رہا۔ اور اٹھا تو دشمن کی تمام صفوں کو پامال کر کے اٹھا ۔دنیا میں اب مسلمانوں کے لئے فلاح نہیں مگر اس کے جھنڈے کے نیچے اور کوئی کامیابی کی راہ نہیں مگر اسی کے نقش قدم پر۔  پس مبارک ہےوہ جو خدمت اسلام کے لئے اس کے انصار میں داخل ہوتا ہے اور اس نازک وقت تذبذب  و اضطراب میں ضائع نہیں کرتا اور اگر کوئی کسی اور اسرائیلی مسیح کی آمد کا منتظر ہے تو وہ  انتظار کو دیکھے۔



[1] یہ اشعار ’براہین احمدیہ‘ ، حصہ دوم، صفحہ 98 سے لئے گئے ہیں، اور انکا ترجمہ یہ ہے: اگر مقابلہ میں بد  شکل اور سیاہ  رو نہ ہوتا، تو کیونکر کوئی گل اندام معشوق کا حسن پہچان سکتا۔  اندھیرے کی وجہ سے ہی روشنی کی قدر ہے، اور جہالت کی وجہ سے ہی عقل کی عزت قائم ہے۔ (مرتب، زاہد عزیز)

[2]  اصل مضمون میں اس انجمن کا نام دیا گیا ہے، مگر پڑھا نہیں جا سکتا۔(مرتب)

[3]  آپ کا اشارہ جمعیۃ علماء ہند کی اس درخواست کی طرف ہے جو انہوں نے احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور میں بھیجی کہ انہیں مولانا عبد الحق ودیارتھی کی خدمات دو سال کے لئے دی جائیں تا کہ وہ انکے علماء کو مناظرہ کرنا سکھا دیں۔ (مرتب)

[4] ان اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ گائے کو تو خدا مان لیتے ہیں، مگر نوح کو پیغمبر نہیں مانتے۔ (مرتب)

[5] کتاب ’ عرائس البیان فی حقائق القرآن‘   میں  تفسیر ’ عرائس البیان‘  کے ساتھ ہر صفحہ پر متوازی کالم میں  محی الدین ابن عربی  کی  تفسیر  دی گئی ہے۔ مندرجہ ذیل  عبارت   محی الدین ابن عربی  کی  تفسیر   میں آیت  بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ  کے تحت ہے۔  (مرتب)

[6] اصل مضمون میں یہ حوالے صرف فارسی میں دئے گئے تھے۔ یہاں ہم نے انکا اردو ترجمہ مولانا سیّد زوّار حسین شاہ صاحب کے اردو ترجمہ مکتوبات  ،شائع شدہ کراچی، 1991،  سے دیا ہے۔ دیکھئے  اس ترجمہ میں دفتر دوم، صفحہ  200 اور    202 (مرتب)